10 جون 2011 - 19:30

طالبان اور القاعدہ نے 25 مارچ 2011 کو ٹل پاراچنار روڈ پر لوئر کرم بگن کے مقام سے کو دن دہاڑے اغوا ہونے والے پاراچنار کے 33 شیعہ مغویوں کی رہائی کوہاٹ اور پشاور کی جیلوں میں قید القاعدہ و طالبان کے انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی رہائی سے مشروط کر دی ہے جس سے افواج پاکستان اور پاراچنار کے مسئلے کو فرقہ وارانہ جنگ کا قرار دے کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کرنے والی قوتوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

ابنا: باوثوق ذرائع کے مطابق پاراچنار کے 33 شیعہ مغویوں کی رہائی دہشت گردوں نے پاکستان کی جیلوں میں بند القاعدہ و طالبان کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی رہائی سے مشروط کر دی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ حکومت و سیکورٹی ادارے القاعدہ و طالبان کے دہشت گردوں کو گرفتار کر کے کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، اور دوسری طرف سے بےچارے غریب عوام اور سرکاری ملازمین کو طالبان کے ہاتھوں اغوا کروا کر ڈرامہ بازی کے بعد القاعدہ و طالبان کے ان دہشت گردوں کو رہائی دلاتے ہیں اور یوں وہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکی ڈالرز کمانے اور عیاشیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا موصولہ اطلاعات کے مطابق لوئر کرم بگن کے مقام پر 25 مارچ کو اغوا ہونے والے پاراچنار کے شیعہ مغویان زندہ ہیں، اور تابوتوں پر صرف نام لکھ کر مغویوں میں سے جو مبینہ آٹھ لاشیں پاراچنار بھیجی گئی تھیں، دراصل وہ ایک ڈرامہ تھا اور دہشت گردوں نے کوہاٹ اور پشاور کی جیلوں میں قید القاعدہ و طالبان کے انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی جلد از جلد رہائی کے حوالے سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے پریشر کے طور پر یہ ڈرامہ رچایا تھا؛ اور اگر یہ بات صحیح ہو تو مغویوں کی تعداد 40 سے بھی زائد ہوسکتی ہے۔بشکریہ از اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت